Skip to main content

مزاحیہ تقریر

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز 
اور ا ن کی جوتیاں لے کے بھاگ گیا فراز
محٹرم سامعین بمعناظرین جناب صدر اینڈ آل بردرزالسلام علیکم!
میری آج کی تقریر کا عنوان اس دن کے نام جس دن ،جس دن ،پتہ نہیں کیا ہوا تھا،میری آج کی تقریر اس دن کے نام جس دن،جس دن بہت کچھ ہو اتھا۔جنابِ صدر !میرے اس چھوٹے سے دل میں بڑی سی خواہشیں سر اٹھاتی رہتی ہیں۔میں پڑھ لکھ کر ایک بڑا انسان بننا چاہتا ہوں۔اتنا بڑا کہ میرا قد عالم چنا سے بھی بڑا دکھنے لگے۔میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے ملک کا نام روشن کر وں لیکن کمبخت واپڈا والے ایسا کرنے نہیں دیتے۔جب بھی پاکستان کا نام لکھ کر ۱۰۰ واٹ کے بلب پر لگاتا ہوں ،واپڈا والے بجلی ہی’’ چھک ‘‘لیتے ہیں ۔جنابِ صدر اس میں میری کوئی غلطی نہیں۔آ پ خود اندازہ لگائیں کہ اگر آج واپڈا والے میری راہ میں رکاوٹ نہ بنتے ،میری راہ میں روڑے نہ اٹکاتے،میری راہ میں کانٹے نہ بوتے اور سو واٹ کا بلب نہ بجھاتے تو میں عمران سیریز کاکم از کم ایک ناول ختم کر چکا ہوتا۔لیکن شاید قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
جنابِ صدر میں چاہتا ہوں کہ میں ایک سائنسدان بنوں اور لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کروں۔میرا سب سے پہلا کام طلبہ کے لیے ہو گا،کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ طلبہ ہی اس کرۂ ارض پر وہ مظلوم مخلوق ہے جس پر ہر قسم کے تجربات کئے جاتے ہیں۔اور نتائج اپنی مرضی سے لئے جانے کا وہم رکھا جاتا ہے۔میرے خیال سے بات آپ کے پلے نہیں پڑ رہی ،براہِ کرم ایک پلہ کہیں سے ادھار لے لیجئے۔میرے کہنے کا مطلب ہے کہ یہی وہ طلبہ ہیں جو بمشکل انسان ہونے کے باوجود بھی مرغا بننے کے لئے اپنا سر تسلیمِ خم کر دیتے ہیں،یہی وہ سٹوڈنٹس ہیں جو سردیوں میں گرم انڈوں کی بجائے کلاس میں گرم ڈنڈوں سے نوازے جاتے،لیکن کلمۂ شکایت زبان تک نہیں لاتے،یہی وہ طلبہ ہیں جو سردیوں میں بھی گاڑی کے پیچھے لٹکائے جاتے ہیں ،جیسے یہ کوئی انسان نہیں بلکہ پھٹے پرانے کپڑے ہیں۔لیکن زبان سے صرف اتنا ہی کہتے ہیں کہ کاش ہمیں بھی کوئی انسان سمجھتا۔کہتے تو اور کچھ بھی ہیں لیکن خیر جانے دیجیے۔
اسی پر ایک عددشعر عرض ہے کہ
زبان سے اف تک کہتے نہیں
دل سے تف کہتے تھکتے نہیں
خیر جو بھی ہے اس پر مٹی پاؤ،کیونکہ طوطی کی آواز نقار خانے میں سننے کے لئے کوئی طوطا بچا ہی نہیں۔سب طوطوں نے انسانوں کی طرح آنکھیں پھیر لی ہیں۔
بہر حال باتیں ہورہی تھیں ہماری خواہشات کی،، ہم نے سوچا کہ ہم اس بار وزیرِ اعظم کی سیٹ کے لیے الیکشن لڑ ہی لیں۔لیکن چند باتوں نے آڑے آلیا ۔ایک تو یہ کہ لڑنا اچھی بات نہیں ،اسی بات پر شعر عرض ہے کہ
لڑائی میں نقصان ہے 
صفائی نصف ایمان ہے 
،دوسرا یہ اٹھارہ کروڑ عوام کی گالیاں ہم سے برداشت نہیں ہوگیں اس لیے ہم نے دل برداشتہ ہو کر فیصلہ کر ہی لیا تھا کہ ایسا نہیں کریں گے۔
بہر حال میں آپ کو ایک واقعہ بتاتا ہوں کہ ۔ایک دن میں باہر بیٹھا تھاکہ اچانک آواز آئی کہ ٹیچروں کے لئے سیٹیں خالی ہیں۔پیچھے دیکھا تو آواز ایک ہوٹل سے آرہی تھی۔میں نے سوچا کہ یہ ہوٹل میں ٹیچروں کا کیا کام۔وہ تو بعد میں پتہ چلا کہ جو آواز لگا رہا تھا وہ بیچارہ نیم انگریزی دان تھا،وہ جلدی میں اس نے جو لفظ ٹیچروں کہا تھا،وہ وہ والا ٹیچروں نہیں تھا جو آپ سمجھ رہے ہیں،دراصل وہ کہنا یہ چاہتاتھا کہ ٹی.....چروں کے لئے ‘‘یعنی چائے چرنے والوں کے لئے جگہ پڑی ہے۔
ایک دفعہ میں نے سوچا کہ میں پریس رپورٹر بن جاؤں کم از کم بند ے کا نام تو بن ہی جائے گا۔بہر حال میں پریس والوں سے ملا،ایک دن کام کیا لیکن انہوں نے دوسرے دن ہی دھکے دے کر آفس سے یوں باہر نکالا اور بے عزتی یوں کی جیسے ایک خاوند کی جاتی ہے۔وجہ صرف ایک ہی تھی کہ میں یہ خبر چھاپ دی تھی آپ بھی سن لیجئے:
۔خبر کی سرخی کچھ یوں تھی کہ،
آج یہ ہو گیا تھا،اس لئے کل وہ نہیں کریں گے،وزیر پاگلیات
تفصیل اس کی یوں کچھ لکھی کہ
جیسا کہ آپ لوگ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے اس لیے ہم آپ اس کی مزید تفصیلات نہیں بتا سکتے۔کیونکہ آپ کچھ نہیں جانتے ہیں۔ہاں اگر آپ کچھ جانتے ہیں تو پھر ہمیں بتانے کی کوئی ضرورت نہیں۔کیونکہ آپ جانتے ہیں۔اس لیے فی الحال اسی پر گزارا کریں۔ 
ہاں تو سامعین میں نے ایک خبر ہی تو شائع کی تھی کونسا ایسا جرم کیا تھا جس کی اتنی بڑی سزا بھگتنا پڑی۔
محترم سامعین اب آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ!زندگی بہت عجیب ہے اس لئے کسی بھی لمحے کو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔تو ان درپیش اور آنے والے خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے میرے کوشش یہی ہوتی ہے کہ ان سے دوسروں کو بچایا جا سکے۔تو چند ایک مشورے آپ کی نظر کروں گا کہ :۔
اگر آپ کوخدانخواستہ کتا کاٹ لے تو آپ گھبرائیں نہیں بلکہ آپ کتے کو کاٹ لیں ،حساب برابر ہو جائے گا۔
اگر آپ کے بال بہت گرتے ہیں تو ٹنڈ کروا لیں،سیاپا ہی مکے۔
اگر آپ کو رات کو نیند نہیں آتی تو چوکیداری کر لیں،تا کہ پیسے ہی مل جائیں۔
اور بہت کچھ کہنے کو میرا دل تو بہت کر رہا تھا کہ آپ کو دو چار کھری کھری سنا دوں لیکن وقت بہت کم ہے اور آپ کا وقت بھی بہت قیمتی ہے کیونکہ آپ نے اس وقت باتیں کرنا ہونگیں اس لیے میں اب آپ کو اجازت دینا چاہوں گا انور مسعود صاحب کی اس نظم کے ساتھ کہ
مرد ہونی چاہئیے،خاتون ہونا چاہئے
اب گرائمر کا یہی قانون ہونا چاہئے
رات کو بچے پڑھائی کی اذیت سے بچے
ان کو ٹی وی کا بہت ممنوں ہونا چاہئے
دوستو انگلش ضروری ہے ہمارے واسطے
فیل ہونے کو بھی اک مضمون ہونا چاہئے
نرسری کا داخلہ بھی سرسری مت جانئے
آپ کے بچے کو افلاطون ہونا چاہئے
صرف محنت کیا ہے انور کامیابی کے لئے
کوئی اوپر سے ٹیلیفون بھی ہونا چاہئے۔

Comments

Popular posts from this blog

صغیرہ شیطان المعروف پتنگے

     صغیرہ شیطان   المعروف پتنگے     برسات میں   پتنگوں کی تو موجیں   لگ جاتی ہیں۔جونہی مغرب کا وقت ہوتا ہے ان کی آمد کا نہ ختم   ہونے   والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔راستے میں چلتے ہوئے کبھی چہرے کے ساتھ ٹکراتے ہیں تو کبھی بالوں میں گھس کر اودھم مچادیتے ہیں۔پتنگوں کی اس قدر بہتات ہوتی ہے کہ بندہ کسی سے بات بھی نہیں کرسکتا ۔اگر اِدھر بات کے لیے منہ کھولا تو اُدھر ایک پتنگا سیدھا   منہ کےاندر،اور پھر تُھو تُھو کرنے والا ایک لا متناہی سلسلہ شروع۔اِدھر تھوکنے کے لیے منہ نیچے کیا تو   اُدھر بالوں میں دوسرا پتنگا اَڑ گیا۔اس سے جان چھڑائی تو   کسی تیسرے شیطان نے آستین سے انٹری ماری اور    قمیض کے اندر مدغم۔سر سے پتنگا نکالا تو وہ سیدھا کانوں میں گھو ں گھوں کرکے اپنا پر تڑوا کے پاؤں پر لوٹنے لگ جاتا ہے۔انسانوں کی بینڈ بجانے میں کوئی کسر   اٹھا نہیں رکھتے۔   بہرحال   حفظِ ما تقدم کے تحت اول تو گھر سے نہ نکلیں   اگر نکلیں تو کسی خاتونِ خانہ کا عبایہ یا برقعہ پہن لیجیے   کہ اسی میں بہتری...

کرونا اور سکول

  کہنے لگے "ما بدولت کے پورے گیارہ سو نمبر آئے ہیں۔" جواب ملا اتنے کم.....!!!؟ "ہمارے پوت نے تو گیارہ سو میں سے گیارہ سو تین حاصل کیے ہیں۔" نیوٹن سمیت سب سائنس دانوں کی روحیں بین کررہی ہیں کہ اب ہماری چھٹی ہونے والی ہے۔ہم سے بڑی بڑی ذہین آتماؤں نے جنم لینا شروع کر دیا ہے۔سائنس ان کے گھر کی باندی اور اس کے اصول ان کے پاؤں کی نوک پر ....! ادھر انہیں کرونا چمٹا ،ادھر انہوں نے نمبر لپیٹے...!! ٹوئیٹر پروہ شور وہ دہائی کہ ہائے لٹ گئے.....! سکول کھولو،آن لائن سمجھ نہیں آتی،ہمیں "بالمشافہ" علم دو...! لیکن سکول بند،احتجاج کے جواب ندارد۔ ٹرینڈ چلایا کہ پیپر نہیں دیں گے،پڑھایا ہی کیا ہے؟ نمبر کم آئیں گے ،ہم تو مر جائیں گے...! وقت گزرا،سکول کھلے،امتحان ہوئے،نتائج آئے۔ جنہوں نے شور مچا رکھا تھا کہ ہائے مستقبل تباہ ہوگیا،انہی کے سو فیصد نمبر آئے۔جب سمجھ ہی نہیں آئی،پڑھا ہی نہیں،اتنے نمبر کیا من و سلوی تھا جو آسمان سے نازل ہوگئے؟۔ سننے والے حیران،زبانیں گنگ،آنکھیں حیرت زدہ....! تاریخ نے دیکھا کہ پاکستانی قوم نے کرونا سے بھی لڑ کر علم کی شمع روشن کی،جس کے شعلے ...

عقل

ڈائنوسارز ناپید ہوچکے ہیں لیکن جیلی فش ابھی بھی کروڑوں سالوں سے زندہ ہے. کیونکہ اس کا دماغ نہیں ہے. اس لیے ایسے لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں جن کے پاس دماغ نہیں ہے.وہ بھی لمبے عرصے تک اس دنیا میں رہ سکتے ہیں.اسی لیے تو کہتے ہیں عقل نہی تاں موجاں ای موجاں عقل اے تاں سوچاں ای سوچاں بعض لوگوں کے پاس عقل تو ہوتی ہے لیکن وہ اسے انتہائی سنبھال کر رکھتے ہیں,شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ چیزیں استعمال کرنے سے گھس جاتی ہیں,اور گھسی پٹی چیزیں وزیروں کی طرح بےکار ہوتی ہیں. جس بندے نے یہ محاورہ ایجاد کیا تھا کہ عقل بڑی کہ بھینس,شاید اس نے کبھی ہاتھی نہیں دیکھا تھا. لوگ کہتے ہیں کہ جن کے پاس عقل ہو وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں اور بڑاعہدہ پاتے ہیں.لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر دیکھ کر خدا کی قدرت پر یقین آجاتا ہے.ویسے مجھے امید ہے جیلی فش اور ڈونلڈ ٹرمپ کا شجرۂ نسب کہیں نہ کہیں ضرور ملتا ہوگا.کیونکہ دونوں کے پاس وہ نہیں ہے جو کھوپڑی کے اندر ہوتا ہے. جب عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے تو گھاس چرنے چلی جاتی ہے اور چلتے چلتے ٹخنوں تک پہنچ جاتی ہے,اور جب اپنے پاؤں پر کلہاڑی پڑتی ہے توپھر عق...