Skip to main content

پیغامِ اسلام
پسند ہے خدا کو صرف دینِ اسلام
پھیلانا ہے ہر سواس کا پیغام
ادا کرو نماز ، روزہ اور زکوۃٰ
نیکیوں کی کر دو دعوتِ عام
برائی سے بچو اور بچاؤ
کہ یہی ہے اصل کام
چلنا ہے صرف شریعتِ اسلام پر
خواہشِ نفس کو دو لگام
رمضان میں رکھو روزے پورے
ذکر و تلاوت کرو صبح و شام
جہاد فرض ہے مسلمان پر
اپنے ہی فائدے کا ہے یہ کام 
زندہ رہو گے مرکر ،اگر
نوش کیا شہادت کا جا م
بیت اللہ کی کی جس نے زیارت
گناہوں کی معافی کی سنا دو اسے بشارت

Comments

Popular posts from this blog

صغیرہ شیطان المعروف پتنگے

     صغیرہ شیطان   المعروف پتنگے     برسات میں   پتنگوں کی تو موجیں   لگ جاتی ہیں۔جونہی مغرب کا وقت ہوتا ہے ان کی آمد کا نہ ختم   ہونے   والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔راستے میں چلتے ہوئے کبھی چہرے کے ساتھ ٹکراتے ہیں تو کبھی بالوں میں گھس کر اودھم مچادیتے ہیں۔پتنگوں کی اس قدر بہتات ہوتی ہے کہ بندہ کسی سے بات بھی نہیں کرسکتا ۔اگر اِدھر بات کے لیے منہ کھولا تو اُدھر ایک پتنگا سیدھا   منہ کےاندر،اور پھر تُھو تُھو کرنے والا ایک لا متناہی سلسلہ شروع۔اِدھر تھوکنے کے لیے منہ نیچے کیا تو   اُدھر بالوں میں دوسرا پتنگا اَڑ گیا۔اس سے جان چھڑائی تو   کسی تیسرے شیطان نے آستین سے انٹری ماری اور    قمیض کے اندر مدغم۔سر سے پتنگا نکالا تو وہ سیدھا کانوں میں گھو ں گھوں کرکے اپنا پر تڑوا کے پاؤں پر لوٹنے لگ جاتا ہے۔انسانوں کی بینڈ بجانے میں کوئی کسر   اٹھا نہیں رکھتے۔   بہرحال   حفظِ ما تقدم کے تحت اول تو گھر سے نہ نکلیں   اگر نکلیں تو کسی خاتونِ خانہ کا عبایہ یا برقعہ پہن لیجیے   کہ اسی میں بہتری...

یہ عبرت کی جا ہے

سکول میں ہیں عبرت کے ہر سو نمونے مگر تجھ کو اندھا کیا کھیل و کود نے کبھی ا ن بٹنوں سے دیکھا ہے تو نے جو بھگوڑے تھے لڑکے وہ اب ہیں نمونے جگہ بھاگنے کی سکول نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے آئے امتحان میں سوال کیسے کیسے  دماغ جواب دے گئے کیسے کیسے لڑکوں نے نقل لگائی کیسے کیسے خلاصے لے گئے ساتھ کیسے کیسے جگہ نقل لگا نے کی یہ نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تما شہ نہیں ہے امتحانوں نے شر یف چھوڑا نہ ہی آوارا  اِ سی سے مجھ سا پڑَھاکو بھی ہا را ہر اک لے کے کیا کیا حسرت سیدھارا  ہر مضمون میں نمبر لیا صفر یارا جگہ افسوس کرنے کی یہ نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے رزلٹ نے پھر آ کے کیا کیا ستا یا استاد تیرا کر دے گا بالکل صفایا میٹرک میں کسی نے توَ پیپر حل کر ایا ایف ایس سی نے پھر تجھ کو پاگل بنایا جگہ رزلٹ بتانے کی نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے ہے عیش و عشرت کا کوئی مکاں بھی جہاں تاک میں کھڑا ہو امتحاں بھی بس اپنے اس خوف سے نکل بھی  یہ طرزِ نقل ا ب اپنا بدل بھی جگہ طریقہ نقل بتانے کی نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے ...
ہاسٹل میں گزرے یادگار دن ( بقیہ) ہاسٹل ڈھونڈتے ہوئے پہلے یہی پوچھتے "نیٹ ہے؟ " چلتا بھی ہے یا نہیں۔۔! " "ابے پڑھنے آئے ہو یا نیٹ چلانے۔۔ ہاسٹل ہے کوئی نیٹ کیفے نہیں۔۔۔" دل میں ہاسٹل وارڈن کہتے ہونگے۔۔۔! "ارے ہم پیسے دیئے ہیں۔۔کوئی مفت میں نہیں رہنے آئے۔۔" ہم بھی دل میں ترکی بہ ترکی جواب دیتے۔۔۔! خیر زبان حال سے وارڈن بڑی تعریف کرتے۔۔اپنے دہی کو کھٹا کون کہتا ہے بھلا؟۔۔۔بتاتے بڑا تیز ہے یہاں کا وائی فائی،تمہاری زبان سے بھی۔۔۔ہم بھی مان لیتے۔۔رہتے،چلاتے۔۔نیٹ کچھوے کی رفتار سے چلتا ہے اور ادھر ہمارا ارادہ وہاں سے چلنے کا بنتا۔۔۔خیر ہمارے ارادے بھانپتے ہوئے اگلے دن نیٹ کی رفتار میں کافی فرق آجاتا۔۔ پھر ارادہ ترک کردیتے۔۔۔! بھلے گھر میں دس ایم بھی چلانے کی اجازت نہ ملتی ہو یہاں تو اندھیر نگری مچاتے۔۔۔اور اسی کا مطالبہ کرتے۔۔۔ یو پی ایس ہے؟ جنریٹر ہے؟ بجلی تو نہیں جاتی ناں؟!! "پاکستان میں ہی رہ رہے ہو بھایا!!!کوئی انگلستان نہیں!" "مفت میں کون رہ رہا ہے بھلا!!" ہمارا پھر وہی جواب۔۔لاجواب۔۔ سب کچھ ہے۔بجلی نہیں جاتی۔ جائے تو پنکھا ہم جھلی...