Skip to main content

Posts

یہ عبرت کی جا ہے

سکول میں ہیں عبرت کے ہر سو نمونے مگر تجھ کو اندھا کیا کھیل و کود نے کبھی ا ن بٹنوں سے دیکھا ہے تو نے جو بھگوڑے تھے لڑکے وہ اب ہیں نمونے جگہ بھاگنے کی سکول نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے آئے امتحان میں سوال کیسے کیسے  دماغ جواب دے گئے کیسے کیسے لڑکوں نے نقل لگائی کیسے کیسے خلاصے لے گئے ساتھ کیسے کیسے جگہ نقل لگا نے کی یہ نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تما شہ نہیں ہے امتحانوں نے شر یف چھوڑا نہ ہی آوارا  اِ سی سے مجھ سا پڑَھاکو بھی ہا را ہر اک لے کے کیا کیا حسرت سیدھارا  ہر مضمون میں نمبر لیا صفر یارا جگہ افسوس کرنے کی یہ نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے رزلٹ نے پھر آ کے کیا کیا ستا یا استاد تیرا کر دے گا بالکل صفایا میٹرک میں کسی نے توَ پیپر حل کر ایا ایف ایس سی نے پھر تجھ کو پاگل بنایا جگہ رزلٹ بتانے کی نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے ہے عیش و عشرت کا کوئی مکاں بھی جہاں تاک میں کھڑا ہو امتحاں بھی بس اپنے اس خوف سے نکل بھی  یہ طرزِ نقل ا ب اپنا بدل بھی جگہ طریقہ نقل بتانے کی نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے ...

اصلی اینڈ جعلی

میری فیس بک آئی ڈی کو وجود میں لگ بھگ چار سال ہوگئے ہیں اور میرے چار سو فرینڈز ہیں, مشکل سے کوئی میسج کر دے تو کردے,نہیں تو یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے ادھار کے پیسے واپس کرنے ہوں اور ٹیکسٹ کرنے سے کنی کتراتے ہیں. ایک دن مجھے خیال آیا کہ کیوں ناں ایک فیک آئی ڈی بنائی جائے اور لوگوں کی نیچر دیکھی جائے کہ وہ سب کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھتے ہیں یا صرف یہ فضیلت میل آئی ڈیز کو حاصل ہے. چنانچہ کسی محترمہ کے نام سے ایک عددفیک آئی ڈی کو عدم سے لاکر فیس بک پر لے آیا, پہلے دن سے ہی چالیس پچاس ریکویسٹ آ گئی,اور پھر ہر روز تھوک کے حساب سے آنے لگیں. آئی ڈی آن کرتے ہی پہلے ٹھرکیوں کا فرینڈ ریکویسٹ پر ہجوم دیکھتا اور انہیں اپنی دوستی کا شرف عطا کیا جاتا. ریکویسٹ ایکسپٹ کرتے ہی شکریہ کے میسج یوں آنے لگتے جیسے ٹائٹینک میں انہیں میں نے ڈوبنے سے بچایا تھا, اس کے بعد دس بارہ گروپس میں کوئی نا کوئی ٹھونس دیتا.اور میں گروپ لیو کرتے کرتے ادھ موا ہوجاتا. اور میسنجر پر تو ہر وقت ہی ایس ایم ایس کا تانتا لگا رہتا,کوئی نام پوچھتا,کہاں سے ہو آپ؟,کیا کرتی ہو,اپنا نمبر تو دو,,,وغیرہ وغیرہ,, اور مج...
یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی گزشتہ روز کراچی میں جو واقعہ پیش آیا اس نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔سولہ سال کے نوجوان لڑکے نے اپنی محبوبہ کو پہلے قتل کیا اور پھر خود کشی کر لی۔تحقیقات کے مطابق لڑکے نے مرنے سے ایک دن قبل اپنے فیس بک پروفائل میں لکھا کہ میں کل مر جاؤں گا۔اس کے کمرے سے جب تلاشی لی گئی تو کئی خطوط اور ڈرائنگ ملیں تھیں۔خط میں لکھا تھا کہ میں اپنے والدین سے بہت پیار کرتا ہوں ۔اور میرے مرنے کے بعد میری قبر فاطمہ کے ساتھ بنائی جائے۔ہم اس جنم میں اکٹھے تونہ ہوسکے لیکن ہماری قبریں اکٹھی بنانا۔اس سے اگلے دن وہ سکول گیا۔اور اسمبلی کے وقت جب تمام طلباء اور طالبات سکول کے میدان میں تھے تو انہوں نے پٹاخے جیسے آواز سنی۔بعد میں جب کلاس آئے تو دیکھا کہ نوروز اور فاطمہ کی لاشیں پڑی ہیں۔گولی دونوں کے سروں سے آر پار ہو چکی تھی۔اور وہ خون میں نہا چکے تھے۔ اب ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ ایسی کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔کیا یہ ان کی نا پختہ سوچ کی بنا پر ہوایا میڈیا کی غلاظت کا اثر تھا۔کیا یہ والدین کی تربیتی کمزوری تھی یا ہما...

روح کی غذآ

روح کی غذا  وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر ’’یسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی۰‘‘ ’’وہ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔تو آپ کہہ دیجئے کہ روح اللہ کا حکم ہے۔‘‘ روح کی غذا کیا ہے؟روح کی غذا اللہ کا ذکر ہے۔جس طرح جسم غذا کے بغیر نہیں رہ سکتا ویسے ہی روح بھی بغیر غذا کے نہیں رہ سکتی۔آج کا پڑھا لکھا معاشرہ روح کی غذا موسیقی کو سمجھتا ہے۔تقریباً ہر شخص موسیقی کا دلداہ ہے۔آپ ہر نوجوان شخص کا کمپیوٹر چیک کرلیں،اس کا موبائل چیک کرلیں،اور اس میں آ پ کو گانے یا موسیقی سے متعلق کوئی ایسی چیز نہ ملے،قطعاً ممکن نہیں۔میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پچانوے فیصد لوگ ایسے ہوں گے جو موسیقی ضرور سنتے ہیں۔بعض حضرات تو یوں بھی کہتے ہیں کہ جب تک میں گانے نہ سن لوں اس وقت تک مجھے نیند نہیں آتی۔کس قدر افسوس ناک بات ہے،اگر خدانخواستہ اسی طرح موت آ جائے تو خدا کو کیا منہ دکھاؤ گے؟ آج ہمارے معاشرے میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے سوائے مساجد کے، جوموسیقی کی لعنت سے پاک نہ ہو۔ آپ سفر میں ہیں یا حضر میں ،یوں سمجھئے کہ موسیقی اور آپ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔آپ ایک دک...